فخر و مباہات

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - غرور و ناز۔ "مجھ پر چندہ وصول کرنے کا جو الزام ہے وہ میرے لیے صد فخر و مباہات ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، حیات جوہر، ٢٣٣ )

اشتقاق

عربی سے مشتق اسم فخر کو حرف عطف 'و' کے ذریعے ایک دیگر عربی اسم جمع 'مباہات' کے ساتھ ملانے سے مرکب عطفی بنا۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٥٨ء کو "بیاض سحر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غرور و ناز۔ "مجھ پر چندہ وصول کرنے کا جو الزام ہے وہ میرے لیے صد فخر و مباہات ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، حیات جوہر، ٢٣٣ )

جنس: مذکر